The history of English began in the 5th century AD when three Germanic tribes—the Angles, Saxons, and Jutes—crossed the North Sea from what is now Denmark and northern Germany to the British Isles. At that time, the inhabitants of Britain spoke Celtic languages. However, the invaders pushed the Celts into what is now Wales, Scotland, and Ireland.
The language of the Angles was called "Englisc," from which the words "England" and "English" are derived. This early form is known as Old English. It was very different from what we speak today; most modern speakers would find it impossible to understand without special study.
In 1066, William the Conqueror (the Duke of Normandy) invaded England. The Normans brought a type of French with them, which became the language of the royals and the elite. For a long time, there was a class divide: the lower classes spoke English, while the upper classes spoke French. Over time, these languages merged to form Middle English, adding thousands of French words to the vocabulary.
By the late 15th century, the Great Vowel Shift and the invention of the printing press helped standardize the language, leading to Early Modern English—the language of William Shakespeare.
The global spread of English happened in two major waves:
| Category | Statistics |
|---|---|
| Total Speakers | ~1.5 Billion+ |
| Native Speakers | ~400 Million |
| Non-Native (L2) Speakers | ~1.1 Billion |
| Number of Words | ~1,000,000+ (Total) / 170,000+ (Current use) |
In these countries, English is the primary language spoken at home by the majority:
English is used for government, education, and law in over 67 countries, including:
انگریزی زبان کی تاریخ پانچویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی جب تین جرمن قبائل (Angles, Saxons, and Jutes) نے بحیرہ شمالی عبور کر کے برطانیہ پر حملہ کیا۔ اس وقت وہاں کے مقامی لوگ "کالٹک" (Celtic) زبانیں بولتے تھے۔ ان حملہ آوروں نے مقامی لوگوں کو ویلز اور اسکاٹ لینڈ کی طرف دھکیل دیا۔
ان قبائل میں سے "اینگلز" کی زبان کو "Englisc" کہا جاتا تھا، جس سے بعد میں "England" اور "English" کے الفاظ نکلے۔ اسے "قدیم انگریزی" (Old English) کہا جاتا ہے، جو آج کی انگریزی سے بالکل مختلف تھی۔
1066 میں ولیم فاتح (نارمنڈی کا ڈیوک) نے انگلینڈ فتح کیا۔ نارمنز اپنے ساتھ فرانسیسی زبان لائے، جو شاہی دربار اور اعلیٰ طبقے کی زبان بن گئی۔ کئی صدیوں تک عام لوگ انگریزی اور حکمران طبقہ فرانسیسی بولتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ دونوں زبانیں مل کر "مڈل انگلش" بن گئیں، جس میں ہزاروں فرانسیسی الفاظ شامل ہوئے۔
15ویں صدی کے آخر میں چھاپہ خانہ (Printing Press) کی ایجاد اور حروف کی آوازوں میں تبدیلی (Great Vowel Shift) نے اس زبان کو ایک معیاری شکل دی، جسے ہم ولیم شیکسپیئر کی زبان یعنی "ابتدائی جدید انگریزی" کے نام سے جانتے ہیں۔
انگریزی کے عالمی پھیلاؤ کی دو بڑی وجوہات ہیں:
آج دنیا میں انگریزی بولنے والوں کی کل تعداد 1.5 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے صرف 40 کروڑ وہ لوگ ہیں جن کی یہ مادری زبان ہے، جبکہ 1.1 ارب سے زیادہ لوگ اسے دوسری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ انگریزی زبان میں الفاظ کا ذخیرہ 10 لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ ڈکشنری میں عام استعمال کے الفاظ تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار ہیں۔
1. مادری زبان (Native): برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ۔
2. سرکاری زبان (Official): پاکستان، انڈیا، نائیجیریا، فلپائن، سنگاپور اور جنوبی افریقہ سمیت 67 سے زائد ممالک میں انگریزی کو دفتری اور تعلیمی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔
انگریزی آج صرف ایک ملک کی زبان نہیں بلکہ ایک عالمی ضرورت بن چکی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور انٹرنیٹ کی زبان ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔